ابنا: سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ موجودہ حالات تشویشناک ہیں، سابق صدر پرویز مشرف نے اپنی بنائی ہوئی قوت کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے علاوہ خود ان کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا یہ ایک یوٹرن تھا جس کا غمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں ہم نے اپنی حکومت یا فوج کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا بلکہ ہم نے ان کو کہا ہے کہ آپ آگے بڑھیں ہم ساتھ ہیں، حکومت کی مدت پوری ہو گئی ہے لہٰذا الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے، ہمارے تھنک ٹینک کا بنیادی مقصد پالیسی بنانا ہے جس سے خود مختاری حاصل ہو۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ کوئی بھی موجودہ حالات کو اچھا نہیں کہے گا۔ مشرف کے یوٹرن لینے کے باعث آج پوری قوم خیمازہ بھگت رہی ہے، اب نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے، امریکہ کبھی بھی خوش نہیں ہوگا اب ہمیں نہ کہنے کی بھی جرات نہیں ہے، اب وقت کچھ امید لے آیا ہے کہ فوج نے نوٹس لیا ہے کہ مزید فوج کو نہیں پھیلا سکتے شمالی وزیرستان میں فی الحال آپریشن سے انکار کیا، عوام فوج کے ساتھ ہے۔ پارلیمنٹ میں کئی قرار دادیں پاس ہوئی ہیں اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تمام پارٹیز کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم اپنے موقف کو دنیا کے سامنے لے آئیں گے کہ ہم متحد ہیں تاہم پارلیمنٹ کی قرار داد پر عملدرآمد حکومت کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندر کی بنیادی کمزوریوں کو دور کرنا ہو گا، خود کفالت کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی، فضول خرچی چھوڑ کر سادگی رواج دینا ہوگا کیونکہ آج ہمارا ایک ہزار بلین روپے سالانہ کرپشن کی نذر ہوتے ہیں جبکہ 750بلین روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے یہ دونوں رقم جمع کریں تو 1750بلین روپے ہمارے پاس آ سکتے ہیں، اس کے علاوہ ہم اپنے وسائل کا استعمال کریں تو ہم بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سابق امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ تھنک ٹینک میں نے پارٹی سے بالاتر ہو کر بنائی اور اس میں ملک کے تمام دانشوروں سیاسی سربراہوں کو مدعو کرتے ہیں اور مختلف چیزوں پر ڈسکس کرتے ہیں جس میں چیدہ چیدہ دماغ والے لوگوں نے مشورہ دیا کہ پالیسی میکنگ کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہیے یعنی پالیسی میکنگ کی خودمختاری حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ غلامانہ زہنیت کو ختم کرنا چاہیے کیونکہ حکومت انتخابات سے بنتی ہے عوام ووٹ دیتے ہیں لہٰذا غیریت کو بیدار کیا جائے تو عوام مرضی کی حکومت بنائیں گے، ایک مزید سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں کوئی عسکری ونگ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا جلال الدین حقانی مولوی یونس خالد گروپ کے آدمی تھے اور جلال الدین حقانی اور یونس خالد کے ساتھ ہمارے بہت اچھے روابط تھے، خالد صاحب پہلے حزب اسلامی میں تھے، حزب اسلامی اور جمعیت اسلامی کا اتحاد ہوا اور حرکتہ انقلاب اسلامی بنی تو مولوی یونس خالد نے کہا کہ میں اس اتحاد میں نہیں جاتا اور انہوں نے اپنا ایک الگ گروپ بنا لیا، بعد میں حزب اسلامی اور جمعیت اسلامی بھی دوبارہ الگ الگ ہو گئے اور زیادہ گروپ بن گیا۔قاضی حسین احمد نے کہا کہ افغانوں کا مزاج ہے کہ وہ کسی ڈسپلن میں کام کرنے کی بجائے خود مختار آزاد اور اپنا اختیار چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے تاکہ ساری دنیا کے مجاہدین جو جان پر کھیل رہے ہیں وہ اسلام کے لئے کر رہے ہیں یہ اگر ان کو معلوم نہیں تھا تو ان کی اپنی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نائن الیون کے واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے دورے پر گئے تھے جس میں انہوں نے ایک امریکی نائب وزیر خارجہ جو دہشت گردی کے خلاف شعبے کے سربراہ بھی تھے، اس کو کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ لوگ جو مختلف ممالک سے آرہے ہیں آپ ان کو سہولیات دے رہے ہیں تو یہ اسلامی حکومت کے لئے کام کر رہے ہیں، یہ راستہ آپ نے ان کو دکھایا جہاں کوئی معاملہ ہوتا ہے تفتیش کے بعد پہلے پاکستان پھر افغانستان مل جاتا ہے یہ ملک ان کا ایک دروازہ ہے اور یہ دروازہ آپ نے ان کو دکھایا ہے لہٰذا اب ہم پر کسی قسم کا الزام عائد نہ کریں اور نہ ہی دباؤ ڈالیں اور نہ پاکستان کو اس کی سزا دیں بلکہ اب اس کو جھیلنے کے لئے حکمت عملی بنائیں۔ سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایک خاص حالات میں ہم ایم ایم اے کو منجمد کیا تھا تاہم اب ہم چاہتے ہیں کہ دینی قوتیں ایک دوسرے کے قریب رہیں جس سے فائدہ ہو، ہماری جماعت میں اس بات پر اختلاف ہیں کہ ایم ایم اے بحال ہونا چاہیے یا نہیں تاہم اس اختلاف کو شوریٰ کے اجلاس میں حل کیا جائے گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کا الزام کسی دینی جماعت پر عائد نہیں کرتی بلکہ طالبان کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ترجمان کا اعتراف آ جاتا ہے جیسا کہ ربانی کا واقعہ ہوا تو اس کا بھی اعتراف کیا گیا تاہم بعد میں ترجمان کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ ہم نے ربانی واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی اس لئے کسی سے پوچھا جائے کہ آخر ترجمان ہے کون؟ اس لئے ہمیں پتہ نہیں کہ ایسے واقعات میں کون ملوث ہوتے ہیں تاہم امریکن تھنک ٹینک کی جو پالیسیاں بن رہی ہیں ان کے رینٹ کارپوریشن کی رپورٹ میرے پاس ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جو بھی دہشت گردی تنظیمیں ہیں ان کو ٹارگٹ بنا کر قتل کرنا ہماری پالیسی ہے اور اسی پالیسی کے تحت ڈرون حملوں کے ذریعے ہمارے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں جس کو وہ جائز سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت اسرائیل تینوں ہمارے نیو کلیئر پروگرام کے مخالف ہیں اور ہماری یکجہتی کے بھی مخالف ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک بھارت کا ذیلی ملک بن جائے اور ہم بھارت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرکے چین کے مقابلے میں تیار ہو جائیں۔ حالانکہ یہ ہماری قومی پالیسی کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ ہماری علیدگی کی تحریکوں کی حمایت اور مدد کرتا ہے۔
.....
/169